پیش کردہ کلام
- 01 خود تماشہ ہے خود تماشائی
- 02 ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے
- 03 رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
- 04 گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے
- 05 رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
- 06 دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
- 07 جذبہ عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
- 08 دو دل مل رہے ہیں، مگر چپکے چپکے
- 09 اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
- 10 کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
- 11 پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
- 12 بانجھ
- 13 تم جو آتے ہو