آبدار خان

آبدار خان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے اجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہیے دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے یہ تو چہرے کا فقط عکس ہے تصویر نہیں اس پہ کچھ رنگ ابھی اور چڑھاتے رہیے غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہے جس جگہ رہیے وہاں ملتے ملاتے رہیے جانے کب چاند بکھر جائے گھنے جنگل میں گھر کی چوکھٹ پہ کوئی دیپ جلاتے رہیے

شاعر: ندا فاضلی — پیشکش: آبدار خان

‹ کلام کی فہرست پر واپس