پیش کردہ کلام
- 01 مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میں
- 02 دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیں
- 03 میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو
- 04 کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے
- 05 ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
- 06 اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
- 07 غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
- 08 وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
- 09 توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
- 10 عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے
- 11 کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے
- 12 بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے
- 13 آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں