آبدار خان

آبدار خان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں

شاعر: پیر نصیرالدین — پیشکش: آبدار خان

‹ کلام کی فہرست پر واپس