آبدار خان

آبدار خان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے ترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میں یہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے تجھے اس لیے میں انڈیلتا نہیں دفعتاً کہیں تو چھلک ہی نہ جائے دل کے ایاغ سے کوئی بات بھولنی ہو تو کیا ہے طریق کار کبھی پوچھ میرے لیے ہی اپنے دماغ سے یہ جھگڑتی آنکھیں بگڑتی نیند الجھتے خواب وہی محویت ہی بھلی تھی ایسے فراغ سے

شاعر: سعید شارق — پیشکش: آبدار خان

‹ کلام کی فہرست پر واپس