دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا
دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا ! الزامِ بے وفائی کسی پر تو آئے گا ! جب تُم کُھلی کتاب ہو، پڑھتے رہیں گے لوگ ! بیری ہو گھر کے صحن میں، پَتھر تو آئے گا ! رویا ہوں اُن کی یاد میں، خود سے لِپٹ کے میں ! دِل کو مرے قرار، گھڑی بھر تو آئے گا ! لفظوں کو جوڑ توڑ کے اتنا بڑھا لیا ! میرا کلام غم کے برابر تو آئے گا ! آنکھوں سے دور رہنے کی تاکید کی تو تھی ! اِن میں اُتر گئے ہو ! سمندر تو آئے گا ! آوارگی میں گُم ہے ابھی دل تو کیا ہوا ! ٹوٹے گا کھا کے ٹھوکریں، پھر گھر تو آئے گا ! میرے ہزار کہنے پہ آئے نہ آئے زین ! لیکن وہ میری موت کا سُن کر تو آئے گا !
‹ کلام کی فہرست پر واپس