اب منزل صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم
یعنی دل سکوت میں گھر کر رہے ہیں ہم
کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں
ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم
گویا زمین کم تھی تگ و تاز کے لیے
پیمائش نجوم و قمر کر رہے ہیں ہم
کافی نہ تھا جمال رخ سادۂ بہار
زیبائش گیاہ و شجر کر رہے ہیں ہم
احمد مشتاق
Ab manzil sada se safar kar rahe hain hum
Yaani dil sukoot mein ghar kar rahe hain hum
Khoya hai kuch zaroor jo us ki talash mein
Har cheez ko idhar se udhar kar rahe hain hum
Goya zameen kam thi tag-o-taz ke liye
Paimaish nujoom o qamar kar rahe hain hum
Kaafi na tha jamal-e-rukh-e-saada-bahar
Zebaish giyah o shajar kar rahe hain hum
احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...
مکمل تعارف پڑھیں