وہی ان کی ستیزہ کاری ہے
وہی بے چارگی ہماری ہے
وہی ان کا تغافل پیہم
وہی اپنی گلہ گزاری ہے
وہی رخسار و چشم و لب ان کے
وہی بے چہرگی ہماری ہے
حسن ہو خیر ہو صداقت ہو
سب پہ ان کی اجارہ داری ہے
ہاتھ اٹھا توسن تخیل سے
یہ کسی اور کی سواری ہے
احمد مشتاق
Wahi un ki sateza-kari hai
Wahi be-chaargi hamari hai
Wahi un ka taghaful-e-paiham
Wahi apni gila-guzari hai
Wahi rukhsar-o-chashm-o-lab un ke
Wahi be-chehragi hamari hai
Husn ho khair ho sadaqat ho
Sab pe un ki ijara-dari hai
Haath uṭha toosun takhayyul se
Yeh kisi aur ki sawari hai
احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...
مکمل تعارف پڑھیں