منہ اندھیرے جگا کے چھوڑ گئی
ایک صبح جمال کی آواز
دن سے فرصت کبھی ملے تو سنو
شام کا ساز رات کی آواز
گونجتا ہے ابھی ترانۂ شوق
وہی آہنگ ہے وہی آواز
ٹیڑھے میڑھے مڑے تڑے مکھڑے
ٹوٹی پھوٹی کٹی پھٹی آواز
بڑے دکھ جھیل کر کمائی ہے
جو بھی ہے یہ بری بھلی آواز
احمد مشتاق
Munh andhere jaga ke chhod gayi
Ek subh-e-jamal ki aawaz
Din se fursat kabhi mile to suno
Shaam ka saaz raat ki aawaz
Goonjta hai abhi tarana-e-shauq
Wahi aahang hai wahi aawaz
Teṛhe meṛhe muṛe tuṛe mukhṛe
Tooti phooti kaṭi phaṭi aawaz
Baṛe dukh jheel kar kamayi hai
Jo bhi hai yeh buri bhali aawaz
احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...
مکمل تعارف پڑھیں