احمد مشتاق — شاعر کی تصویر

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا — احمد مشتاق

شاعر

تعارف شاعری

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا
دل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا
میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے میں
کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا
بجھ گئی رونق پروانہ تو محفل چمکی
سو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا
یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں
کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

Chand us ghar ke darichon ke barabar aaya

Chand us ghar ke darichon ke barabar aaya
Dil mushtaq thehar ja wahi manzar aaya
Main bahut khush tha kadi dhoop ke sannate mein
Kyun teri yaad ka badal mere sar par aaya
Bujh gayi raunaq-e-parwana to mehfil chamki
So gaye ahl-e-tamanna to sitamgar aaya
Yaar sab jama hue raat ki khamoshi mein
Koi ro kar to koi baal bana kar aaya

شاعر کے بارے میں

احمد مشتاق

احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام