چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سے
دل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سے
کیسا روشن تھا ترا نیند میں ڈوبا چہرہ
جیسے ابھرا ہو کسی خواب کی گہرائی سے
وہی آشفتہ مزاجی وہی خوشیاں وہی غم
عشق کا کام لیا ہم نے شناسائی سے
نہ کبھی آنکھ بھر آئی نہ ترا نام لیا
بچ کے چلتے رہے ہر کوچۂ رسوائی سے
ہجر کے دم سے سلامت ہے ترے وصل کی آس
تر و تازہ ہے خوشی غم کی توانائی سے
کھل کے مرجھا بھی گئے فصل ملاقات کے پھول
ہم ہی فارغ نہ ہوئے موسم تنہائی سے
احمد مشتاق
Chhin gayi teri tamanna bhi tamannai se
Dil behalte hain kahin hausla afzaai se
Kaisa roshan tha tera neend mein dooba chehra
Jaise ubhra ho kisi khwab ki gehrai se
Wahi aashufta-mizaji wahi khushiyan wahi gham
Ishq ka kaam liya hum ne shanasai se
Na kabhi aankh bhar aayi na tera naam liya
Bach ke chalte rahe har koocha-e-ruswai se
Hijr ke dam se salamat hai tere vasl ki aas
Tar-o-taza hai khushi gham ki tawanai se
Khil ke murjha bhi gaye fasl-e-mulaqat ke phool
Hum hi farigh na hue mausam-e-tanhai se
احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...
مکمل تعارف پڑھیں