احمد مشتاق — شاعر کی تصویر

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا — احمد مشتاق

شاعر

تعارف شاعری

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا
وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا
وہی ٹوٹی ہوئی کشتی ہے اپنی
وہی ٹھہرا ہوا دریا ہمارا
یہ مقتل بھی ہے اور کنج اماں بھی
یہ دل یہ بے نشاں کمرہ ہمارا
کسی جانب نہیں کھلتے دریچے
کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا
ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ
ہمارے ساتھ ہے سایا ہمارا

Pata ab tak nahin badla hamara

Pata ab tak nahin badla hamara
Wohi ghar hai wohi qissa hamara
Wohi tooti hui kashti hai apni
Wohi thahra hua darya hamara
Yeh maqtal bhi hai aur kunj-e-amaan bhi
Yeh dil yeh be-nishaan kamra hamara
Kisi jaanib nahin khulte dariche
Kahin jaata nahin rasta hamara
Hum apni dhoop mein baithe hain Mushtaq!
Hamare saath hai saaya hamara

شاعر کے بارے میں

احمد مشتاق

احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام