روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
اب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھا
درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئی
کیا ٹھہرتیں بستیاں پانی ہی بے اندازہ تھا
رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہے
کھڑکیاں روشن تھیں لیکن بند ہر دروازہ تھا
احمد مشتاق
Roshni rehti thi dil mein zakhm jab tak taaza tha
Ab jahan deewar hai pehle wahan darwaza tha
Dard ki ek mauj har khwahish baha kar le gayi
Kya theharti bastiyan paani hi be-andaza tha
Raat saari khwab ki galiyon mein hum chalte rahe
Khidkiyan roshan thi lekin band har darwaza tha
احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد م...
مکمل تعارف پڑھیں