حال دل میں سنا نہیں سکتا
لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
ہوش عارف کی ہے یہی پہچان
کہ خودی میں سما نہیں سکتا
پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو
داغ دل کو مٹا نہیں سکتا
مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر
الم اس کو گھٹا نہیں سکتا
Haal-e-dil mein suna nahin sakta
Lafz ma'ani ko pa nahin sakta
Ishq nazuk mizaaj hai be-had
Aql ka bojh utha nahin sakta
Hosh-e-aarif ki hai yahi pehchan
Ke khudi mein sama nahin sakta
Poonchh sakta hai hamnasheen aansu
Daagh-e-dil ko mita nahin sakta
Mujh ko hairat hai us ki qudrat par
Alam us ko ghata nahin sakta
سید اکبر حسین الہ ابادی 16 نومبر 1846ء کو ضلع الہ اباد کے قصبہ بارہ میں پیدا ہوئے۔والد تفضل حسین نائب تحصیلدار تھے۔ اکبر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہو...
مکمل تعارف پڑھیں