اختر عثمان — شاعر کی تصویر

اختر عثمان کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اختر عثمان عہدِ حاضر کے اُن اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو شاعری کو سماجی شعور، فکری گہرائی اور داخلی کرب کے نئے زاویے عطا کیے۔ ان کا اصل نام اختر محمود ہے اور وہ 4 اپریل 1969ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا آبائی تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی راولپنڈی میں گزری جہاں انہوں نے سینٹ پالز کیمبرج اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن سے ایف اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے دوران ان کی ادبی دلچسپیاں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر احسان اکبر کی سرپرستی نے ان کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اسی دور میں وہ حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ ہوگئے۔

اختر عثمان کی شاعری محض جذباتی یا روایتی عشقیہ مضامین تک محدود نہیں بلکہ اس میں سماجی حقیقت نگاری، سیاسی بے یقینی، طبقاتی تفاوت اور جدید انسان کی روحانی و نفسیاتی الجھنوں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے غزل، نظم، طویل نظم، مرثیہ، تنقید اور کالم نگاری جیسی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی۔ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی، پنجابی، پوٹھوہاری، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ ان کے شعری مجموعوں ’’براد‘‘، ’’کچھ بچا لائے ہیں‘‘، ’’ستارہ ساز‘‘، ’’چراغ زار‘‘، ’’تراش‘‘ اور ’’اشک آباد‘‘ نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں گہری پذیرائی حاصل کی۔ خصوصاً طویل نظم ’’تراش‘‘ کو جدید اردو نظم کے اہم تجربات میں شمار کیا جاتا ہے۔

عملی زندگی میں اختر عثمان نے ابتدا میں سرکاری ملازمت اختیار کی مگر 1997ء میں طبی وجوہات کے باعث ملازمت چھوڑ دی، جس کے بعد وہ صحافت اور ادارت سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے انگریزی روزنامہ Dawn میں بھی خدمات انجام دیں اور ’’ایرو پیجیٹکا‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں حلقۂ اربابِ ذوق کا ’’ادب ستارہ‘‘، ’’احمد فراز لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ اور مجموعۂ کلام ’’چراغ زار‘‘ پر ’’خالد احمد ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ اگرچہ وہ ادبی نمود و نمائش اور ادارہ جاتی سیاست سے نسبتاً دور رہے، مگر سنجیدہ قارئین اور اہلِ ادب میں ان کی حیثیت ایک معتبر اور صاحبِ فکر شاعر کی ہے، جس کی شاعری میں پوٹھوہار کی ثقافتی خوشبو اور عوامی دکھ درد کی بازگشت واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔