آصف الدولہ

آصف الدولہ

شاعر — Asif-ud-Daula

تعارف شاعری

تعارف

<p>آصف الدولہ اردو ادب کی تاریخ میں محض ایک شاعر کی حیثیت سے نہیں بلکہ اودھ کے حکمران، اہلِ سخن کے سرپرست اور لکھنوی تہذیب کے اہم معمار کے طور پر بھی غیر معمولی مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد یحیٰ مرزا زمانی تھا اور وہ 1748ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ اودھ کے نواب شجاع الدولہ کے فرزند تھے اور 1775ء میں والد کے انتقال کے بعد اودھ کی مسند پر فائز ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے دارالحکومت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کیا اور اسی شہر کو ایک عظیم تہذیبی و ثقافتی مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ریختہ کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت شاہزادوں کے انداز میں ہوئی اور انہیں اردو و فارسی کے ساتھ مختلف فنون میں بھی مہارت حاصل تھی۔</p><p>آصف الدولہ کو شاعری سے گہرا شغف تھا اور ان کا تخلص ’’آصف‘‘ تھا۔ وہ اردو کے ساتھ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے اور ان کا ایک فارسی دیوان بھی مرتب ہوا۔ ان کی شاعری کی ابتدا کی صحیح عمر کے بارے میں تاریخی تذکرے خاموش ہیں، تاہم ان کے قلمی کلیات کے حجم سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری ان کی زندگی کا سنجیدہ اور مستقل مشغلہ تھی۔ ان کے کلام میں غزل کے ساتھ مثنوی، حمد، نعت، منقبت اور دیگر اصناف کے نمونے ملتے ہیں۔ ریختہ پر ان کی 27 غزلیں اور متعدد اشعار محفوظ ہیں، جن میں عشق، حسن، تصوف اور انسانی جذبات کے رنگ نمایاں ہیں۔ ان کے استاد کے طور پر میر سوز کا نام ملتا ہے۔</p><p>آصف الدولہ کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ ان کے عہد میں لکھنؤ اردو شاعری اور تہذیب کا ایک نیا مرکز بن کر ابھرا۔ انہوں نے میر تقی میر، میر سوز، سودا اور دوسرے اہلِ کمال کی سرپرستی کی، جس سے دہلی کی شعری روایت لکھنؤ منتقل ہوئی اور آگے چل کر دبستانِ لکھنؤ کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ ان کے دور میں مثنوی اور مرثیے کو بھی فروغ ملا اور بعد کی عظیم لکھنوی شعری روایت کے لیے فضا تیار ہوئی۔ وہ رومی دروازے اور بڑے امام باڑے جیسی عظیم تعمیرات کے باعث بھی یاد کیے جاتے ہیں اور اپنی فیاضی و فنون نوازی کے لیے مشہور رہے۔ 21 ستمبر 1797ء کو لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ یوں آصف الدولہ کی شخصیت میں حکومت، شاعری، فنونِ لطیفہ، تعمیرات اور گنگا جمنی تہذیب کے کئی پہلو یکجا ہو جاتے ہیں۔</p>