کلامِ شاعر
- 01 طالب ہو وہاں آن کے کیا کوئی صنم کا
- 02 نامہ ترا میں لے کر منہ دیکھ رہ گیا تھا
- 03 کیا فاش کروں غم نہاں کو
- 04 کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا
- 05 غیر پر لطف کرے ہم پہ ستم یا قسمت
- 06 صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو
- 07 مرے دل کو زلفوں کی زنجیر کیجو
- 08 وحشت میں سوئے دشت جو یہ آہ لے گئی
- 09 جب سے میرے دل میں آ کر عشق کا تھانا ہوا
- 10 مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا
- 11 آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے
- 12 جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں
- 13 آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا
- 14 شکل اس کی کسی صورت سے جو دکھلائے ہمیں
- 15 قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا
- 16 سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
- 17 یہ اشک چشموں میں ہم دم رہے رہے نہ رہے
- 18 دل دیا جی دیا خفا نہ کیا
- 19 پوچھتے کیا ہو مرے تم دل دیوانے سے
- 20 جو شمشیر تیری علم دیکھتے ہیں
- 21 ہم نے قصہ بہت کہا دل کا
- 22 دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل
- 23 جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
- 24 بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے
- 25 اس ادا سے مجھے سلام کیا
- 26 ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے
- 27 یا ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا