تعارف
<p>فرحت زاہد، جن کا اصل نام فرحت سلطانہ ہے، معاصر اردو شاعری کی نمایاں شاعرہ ہیں۔ وہ 23 مارچ 1960ء کو پیدا ہوئیں اور بہاول پور میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی زندگی کا ایک طویل عرصہ دبئی اور نیویارک میں گزرا، جس کے بعد انہوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی۔ وہ ایک عرصے سے شاعری سے وابستہ ہیں اور ان کا کلام فنون، اوراق اور نقوش جیسے معتبر ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ وہ مشاعروں میں بھی شرکت کرتی رہی ہیں۔</p><p>فرحت زاہد بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں، تاہم ان کے ہاں نظم بھی ملتی ہے۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’لڑکیاں ادھوری ہیں‘‘ اور ’’عشق جینے کا اک سلیقہ‘‘ شائع ہو چکے ہیں؛ ان کا پہلا مجموعہ لڑکیاں ادھوری ہیں 1995ء میں فیروز سنز، کراچی سے شائع ہوا۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، ہجر و وصال، یاد، رشتوں اور عورت کے داخلی تجربے کے ساتھ سماجی شعور بھی نمایاں ہے۔</p><p>فرحت زاہد کی شعری شناخت کا سب سے نمایاں پہلو نسائی احساس کا نرم اور مدھم لہجہ ہے۔ وہ عورت کے دکھ، خواب، ادھورے پن، خودداری اور اپنی شناخت کی جستجو کو بلند آہنگ احتجاج کے بجائے محبت، تہذیب اور داخلی تجربے کے ذریعے بیان کرتی ہیں۔ ان کے معروف اشعار میں ’’عورت ہوں مگر صورتِ کہسار کھڑی ہوں‘‘ جیسے مصرعے ان کی مضبوط نسائی خود آگہی کی ترجمانی کرتے ہیں، جبکہ ناقدین نے بھی ان کی شاعری میں عورت کے خواب، تکمیلیت کی خواہش اور مشرقی نسائیت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں قرار دیا ہے۔</p>