کلامِ شاعر
- 01 یادیں
- 02 سن حوا کی بیٹی
- 03 کھلتی ہوئی مٹھی میں آنسو ہے کہ تارا ہے
- 04 یہ کیسے موڑ پہ اک مہربان چھوڑ گیا
- 05 تھکن سے چور ہیں اور گرد سے اٹے ہیں ہم
- 06 آنچ تو دئے کی تھی سردیوں کی شاموں میں
- 07 خواب اٹھا کر طاق پہ رکھے میں نے بھی
- 08 خون میں ڈوبی ردائیں نہیں دیکھی جاتیں
- 09 سونے ہمیں کب دیتی ہے آواز کسی کی
- 10 اٹھے ہاتھ دعاؤں والے بھر دے مولا
- 11 جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی
- 12 خشک آنگن میں تھی نمی لڑکی
- 13 عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے
- 14 کسی تیز جھونکے کے سنگ تھی مری اوڑھنی
- 15 کھڑکی کھول کے دیکھو موسم اچھا ہے
- 16 خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا
- 17 حق مہر کتنا ہوگا بتایا نہیں گیا
- 18 اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے
- 19 من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے
- 20 لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے
- 21 یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ
- 22 عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں