شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں
دہر میں آہ بے کساں کے سوا
اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں
ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا
اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں
داور حشر بخش دے شاید
ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں
روٹھتا ہے تو روٹھ جائے جہاں
ان کی ہم بے رخی سے ڈرتے ہیں
ہر قدم پر ہے محتسب جالبؔ
اب تو ہم چاندنی سے ڈرتے ہیں
Sher se shaayari se darte hain
Kam nazar roshni se darte hain
Log darte hain dushmani se teri
Hum teri dosti se darte hain
Dehr mein aah-e-be-kasa'n ke siwa
Aur hum kab kisi se darte hain
Hum ko ghairon se dar nahin lagta
Apne ahbab hi se darte hain
Dawar-e-hashr bakhsh de shayad
Haan magar Maulvi se darte hain
RooThta hai to rooTh jaaye jahan
Un ki hum be-rukhi se darte hain
Har qadam par hai muhtasib Jalib
Ab to hum chandni se darte hain
حبیب احمد، ادبی دنیا میں حبیب جالب کے نام سے معروف، 24 مارچ 1928ء کو ہوشیارپور کے قصبے میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے دور میں انہوں نے...
مکمل تعارف پڑھیں