وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے
Wohi halaat hain faqiro'n ke
Din phire hain faqat waziro'n ke
Apna halqa hai halqa-e-zanjeer
Aur halqe hain sab amiro'n ke
Har Bilawal hai des ka maqrooz
Paaon nange hain Be-Nazeero'n ke
Wohi ahl-e-wafa ki soorat-e-haal
Waare nyare hain be-zameero'n ke
Saazishen hain wohi khilaf-e-awaam
Mashware hain wohi masheero'n ke
BeiRiyan saamraaj ki hain wohi
Wohi din raat hain aseero'n ke
حبیب احمد، ادبی دنیا میں حبیب جالب کے نام سے معروف، 24 مارچ 1928ء کو ہوشیارپور کے قصبے میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے دور میں انہوں نے...
مکمل تعارف پڑھیں