حفیظ جالندھری — شاعر کی تصویر

دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے — حفیظ جالندھری

شاعر

تعارف شاعری

دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے

دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے
گلشن ہستی نظر آتا ہے اک صحرا مجھے
عقل کی وادی میں ہوں گم کردۂ مقصود عشق
ڈھونڈھتا ہوں اور نہیں ملتا کوئی رستا مجھے
یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا
اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے
شوق میرا طالب دیدار ہو جاتا اگر
دیکھتا موسیٰؔ مجھے سینا مجھے جلوا مجھے
شاعری کیا کفش بردار گرامی ہوں حفیظؔ
بے کمالی کے سوا کوئی نہیں دعویٰ مجھے

Door se aankhein dikhati hai nayi duniya mujhe

Door se aankhein dikhati hai nayi duniya mujhe
Gulshan-e-hasti nazar aata hai ik sehra mujhe
Aql ki wadi mein hoon gum-karda maqsood-e-ishq
Dhoondhta hoon aur nahin milta koi rasta mujhe
Yeh bhi ik dhoka tha nairang-e-tilism-e-aql ka
Apni hasti par bhi hasti ka hua dhoka mujhe
Shauq mera talib-e-deedar ho jata agar
Dekhta Musa mujhe Seena mujhe jalwa mujhe
Shairi kya kafsh-bardar-e-girami hoon, Hafeez
Be-kamali ke siwa koi nahin dawa mujhe

شاعر کے بارے میں

حفیظ جالندھری

ابو الاثر حفیظ جالندھری (اصل نام: محمد عبدالحفیظ) اردو ادب کے اُن قد آور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی شناخت صرف ادبی نہیں بلکہ قومی اور تاریخی سط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام