جون ایلیا — شاعر کی تصویر

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں — جون ایلیا

شاعر

تعارف شاعری

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
ہو تری خاک آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

Hum toh jaise wahaan ke the hi nahin

Hum toh jaise wahaan ke the hi nahin
Be-amāñ the amāñ ke the hi nahin
Hum ke hain teri dāstāñ yaksar
Hum teri dāstāñ ke the hi nahin
Un ko aandhi mein hi bikhrna tha
Baal o par āshiyāñ ke the hi nahin
Ab hamara makān kis ka hai
Hum toh apne makān ke the hi nahin
Ho teri khāk-e-āstāñ pe salām
Hum tere āstāñ ke the hi nahin
Hum ne ranjish mein yeh nahin socha
Kuch sukhan toh zabāñ ke the hi nahin
Dil ne daala tha darmiyāñ jin ko
Log woh darmiyāñ ke the hi nahin
Is gali ne yeh sun ke sabr kiya
Jaane wale yahaan ke the hi nahin

شاعر کے بارے میں

جون ایلیا

اردو ادب کی تاریخ میں بہت کم ایسی شخصیتیں گزری ہیں جن کی زندگی خود ایک صدی بھر کا موضوع ہو، اور جون ایلیا ان معدودے چند ناموں میں سے ایک ہیں۔ 14 دس...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام