رنگ باد صبا میں بھرتا ہے
میرا اک زخم شام کرتا ہے
سب یہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو
کیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے
شاہراہوں سے روز شام و سحر
ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے
آئینے! تیرے سامنے وہ شخص
اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے
ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے
جون ایلیا
rang baad-e-saba mein bharta hai
mera ek zakhm shaam karta hai
sab yahi mujhse poochhte hain ki tu
kyun sudhare nahin sudharta hai
shahrahon se roz sham-o-sahar
ek anboh kyun guzarta hai
aaine! tere samne woh shakhs
ab bhala kyun nahin sanwarta hai
Eliya Jaun kuchh nahin karta
sirf khushboo mein rang bharta hai
اردو ادب کی تاریخ میں بہت کم ایسی شخصیتیں گزری ہیں جن کی زندگی خود ایک صدی بھر کا موضوع ہو، اور جون ایلیا ان معدودے چند ناموں میں سے ایک ہیں۔ 14 دسمبر 1931ء کو امروہہ جیسے علم و تہذیب کے امین شہر میں پیدا ہونے والے سید حسین جعفری، یعنی جون ایلیا کا تعلق ایک نہایت ممتاز عالم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا عربی، فارسی اور منطق کے است...
مکمل تعارف پڑھیں