جرات قلندر بخش

جرات قلندر بخش

شاعر — Jurat Qalandar Bakhsh

تعارف شاعری

تعارف

<p>قلندر بخش جرأت اردو کے کلاسیکی عہد کے معروف شاعر اور دبستانِ لکھنؤ کے اہم نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق دہلی کے ایک معزز خاندان سے تھا، تاہم خاندان نے دہلی کے نامساعد حالات کے باعث فیض آباد میں سکونت اختیار کی، جہاں جرأت کی پرورش ہوئی۔ ان کا اصل نام شیخ یحییٰ امان بتایا جاتا ہے اور ان کی پیدائش 1748ء یا 1749ء کے لگ بھگ ہوئی۔ نوجوانی میں بینائی سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حاضر جوابی اور شعری صلاحیت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا اور بعد میں لکھنؤ منتقل ہو کر وہاں کے ادبی و تہذیبی ماحول کا اہم حصہ بن گئے۔</p><p>جرأت بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے اور معاملہ بندی، واقعہ نگاری، شوخی اور عاشقانہ مضامین ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ان کے ہاں عشق محض ایک داخلی جذبہ نہیں بلکہ محبوب اور عاشق کے درمیان پیش آنے والے واقعات، گفتگو، ملاقات اور جدائی کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے۔ ان کی زبان صاف، شستہ، محاوراتی اور برجستہ ہے، جبکہ حسن پرستی اور رندی کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں غیر معمولی حاضر جوابی بھی نظر آتی ہے۔ ان کا شعری سرمایہ مختلف اصناف پر مشتمل ہے، تاہم غزل اور معاملہ بندی ہی ان کی بنیادی ادبی شناخت بنی۔ دیوانِ جرأت اور کلیاتِ جرأت ان کے کلام کے اہم مجموعے ہیں۔</p><p>جرأت کا ادبی مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے اردو غزل میں عشق کے اظہار کو ایک نئے خارجی، واقعاتی اور بے تکلف انداز عطا کیا اور لکھنوی شاعری کے مخصوص مزاج کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ میر تقی میر اور مصحفی جیسے شعرا سے ان کے شعری اختلاف کے باوجود ان کی اپنی آواز اتنی منفرد تھی کہ وہ اپنے عہد کے بڑے شعرا میں شمار ہوئے۔ نواب آصف الدولہ سمیت لکھنؤ کے اہلِ ذوق میں انہیں قدر و منزلت حاصل تھی۔ جرأت کا انتقال 1809ء یا 1810ء کے لگ بھگ لکھنؤ میں ہوا، مگر ان کی شوخ، برجستہ اور معاملہ بند شاعری آج بھی اردو غزل کے کلاسیکی سرمایے کا اہم حصہ ہے۔</p>