کلامِ شاعر
- 01 گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا
- 02 صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کو
- 03 تیغ بران نکالو صاحب
- 04 درپئے عمر رفتہ ہوں یا رب
- 05 نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا
- 06 سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر
- 07 شب ہجراں میں مت پوچھو کہ کن باتوں میں رہتا ہوں
- 08 واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا
- 09 مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا
- 10 ہر چند بھرے دل میں ہیں لاکھوں ہی گلے پر
- 11 کیوں کر گلی میں اس کی میں اے ہم رہاں رہوں
- 12 ہے تیری ہی کائنات جی میں
- 13 جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا
- 14 یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں
- 15 بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم
- 16 لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر
- 17 یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں
- 18 سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑ
- 19 عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا
- 20 کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا
- 21 درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں
- 22 کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا
- 23 کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن
- 24 الفت سے ہو خاک ہم کو لہنا
- 25 یاں اس گلی سا کب کوئی بستاں ہے دوسرا
- 26 تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا
- 27 کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا
- 28 گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا
- 29 یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا
- 30 بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا
- 31 جب میں نے کہا اے بت خودکام ورے آ
- 32 اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو
- 33 وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں
- 34 بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار
- 35 چھیڑنے ہم کو یار آج آیا
- 36 دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا
- 37 گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں
- 38 دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج
- 39 در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا
- 40 ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرق
- 41 دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا
- 42 سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں
- 43 کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا
- 44 واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر
- 45 اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا
- 46 گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا
- 47 غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا
- 48 شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا
- 49 پروا نہیں اس کو اور موئے ہم
- 50 نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا
- 51 بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب عشق سے حال تھا
- 52 تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم
- 53 بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر
- 54 حسن اے جان نہیں رہنے کا
- 55 جوش گریہ یہ دم رخصت یار آئے نظر
- 56 جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں
- 57 دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں
- 58 کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا
- 59 یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا
- 60 جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
- 61 ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا
- 62 جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا
- 63 ہمیں دیکھے سے وہ جیتا ہے اور ہم اس پہ مرتے تھے
- 64 رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا
- 65 جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا
- 66 رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا
- 67 بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات
- 68 ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں
- 69 جو روئیں درد دل سے تلملا کر
- 70 سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا
- 71 میں کہا ایک ادا کر تو لگا کہنے ''اوں ہوں''
- 72 اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو
- 73 کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا
- 74 اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
- 75 یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا
- 76 بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں
- 77 برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا
- 78 اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر