ان کی کنپٹیوں کے نیچے
کالی لمبی قلمیں
ان کے رخساروں کے بھرے بھرے بھرپور غدودوں تک تھیں،
تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ زرد گلاسوں کو ہونٹوں سے الگ کرتے۔۔۔۔۔ اور
پھر دھیمی دھیمی باتیں کرتے اپنی نئی نئی ان داشتاؤں کی
جن کے نام اور جن کے نرخ اس دن ہی اخباروں میں چھپے تھے
In ki kanpatiyon ke neeche
Kaali lambi qalamain
In ke rukhsaron ke bhare bhare bharpoor ghudoodon tak thien,
Thode thode waqfon se woh zard glasson ko honton se alag karte..... aur
Phir dheemi dheemi baatein karte apni nayi nayi un dashtaon ki
Jin ke naam aur jin ke nirk us din hi akhbaron mein chhapay thay
مجید امجد (29 جون 1914 – 11 مئی 1974) اردو کے نمایاں شاعر اور فلسفیانہ سوچ کے حامل ادبی شخصیت ہیں۔ وہ جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم ا...
مکمل تعارف پڑھیں