رانا احمد شہید — شاعر کی تصویر

‏حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے — رانا احمد شہید

شاعر

تعارف شاعری

‏حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے

‏حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے
‏نوکِ شمشیر پہ رکھا ہوا سر دیکھا ہے
ہم نے ہر دور میں پھولوں کی تجارت کی ہے
دور صحراؤں میں بھی ہن نے شجر دیکھا ہے
‏پھر کوئی آفتِ انجان ہے آنے والی
‏حاکمِ شہر نے پھر سے جو ادھر دیکھا ہے
‏خشک سالی ہے یہاں، کس نے کہا ہے تم سے
‏ہم نے جو آنکھ بھی دیکھی اسے تر دیکھا ہے
‏اپنا دیوانہ بنایا ہے ہمیشہ کے لیے
‏اس نے جس کو بھی فقط ایک نظر دیکھا ہے

Haq ko haq kehne ka hum ne ye asar dekha hai

Haq ko haq kehne ka hum ne ye asar dekha hai
Nok-e-shamshir pe rakha hua sar dekha hai
Hum ne har daur mein phoolon ki tijarat ki hai
Daur sehraaon mein bhi hum ne shajar dekha hai
Phir koi aafat-e-anjaan hai aane wali
Hakim-e-shehr ne phir se jo idhar dekha hai
Khushk saali hai yahan, kis ne kaha hai tum se
Hum ne jo aankh bhi dekhi use tar dekha hai
Apna deevana banaya hai hamesha ke liye
Us ne jis ko bhi faqat ek nazar dekha hai

شاعر کے بارے میں

رانا احمد شہید

رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام