حق محبت کا کیا ادا کرتا
بے وفا سے میں کیا وفا کرتا
اس کی خواہش تو صرف اتنی تھی
پوج کر میں اسے خد ا کرتا
وہ کبھی تو مجھے بھی اپناتا
ابتدا میں ہی انتہا کرتا
گر اسے میری جان پیاری تھی
ختم ہرگز نہ رابطہ کرتا
اپنے خوابوں کی موت پر احمد
میں نہ مرتا تو اور کیا کرتا
رانا احمد شہید
Haq mohabbat ka kya ada karta
Bewafa se main kya wafa karta
Us ki khwahish to sirf itni thi
Puj kar main use khuda karta
Woh kabhi to mujhe bhi apnaata
Ibtida mein hi intiha karta
Gar use meri jaan pyari thi
Khatam hargiz na raabta karta
Apne khwabon ki maut par Ahmed
Main na marta to aur kya karta
رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...
مکمل تعارف پڑھیں