مشورے خود کو دیے جاتا ہوں
کام الٹے ہی کیے جاتا ہوں
لوگ کرتے ہیں گریبان کو چاک
میں وہ پاگل کہ سیے جاتا ہوں
پیٹ بھرتا ہوں میں کھا کر دھوکہ
اور اشکوں کو پیے جاتا ہوں
بھول کر رنج و الم سب اپنے
اپنی ہی دھن میں جیے جاتا ہوں
ساتھ رہتاہے مرے غم میرا
اس کااحساں ہے، لیے جاتا ہوں
رانا احمد شہید
Mashware khud ko diye jata hoon
Kaam ulte hi kiye jata hoon
Log karte hain garebaan ko chaak
Main woh pagal ke siye jata hoon
Pet bharta hoon main kha kar dhoka
Aur ashkon ko piye jata hoon
Bhool kar ranj-o-alam sab apne
Apni hi dhun mein jiye jata hoon
Saath rehtahai mere gham mera
Us ka ehsaan hai, liye jata hoon
رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...
مکمل تعارف پڑھیں