تجزیہ کیا جب بھی باربار لوگوں کا
ختم ہوتا جاتا ہے اعتبار لوگوں کا
اپنے خواب دنیا سے کس طرح چھپائیں ہم
اردگرد رہتا ہے اک حصار لوگوں کا
دوسروں کی مشکل پر ناچتے اچھلتے ہیں
خول اوڑھتے ہیں جو غمگسارلوگوں کا
بلبلے کے جیسی ہے زندگی ہماری اور
سامنا ہے ہر لحظہ خاردار لوگوں کا
ساتھ جب ملا ہم کو اک حسین چہرے کا
منہ لٹک گیا احمد بیشمار لوگوں کا
رانا احمد شہید
Tajziya kiya jab bhi baar baar logon ka
Khatm hota jaata hai aitbaar logon ka
Apne khwab duniya se kis tarah chhupayein hum
Ird-gird rehta hai ek hisaar logon ka
Doosron ki mushkil par naachte uchhalte hain
Khol odhte hain jo ghamgusar logon ka
Bulbule ke jaisi hai zindagi humari aur
Samna hai har lahza khaardaar logon ka
Saath jab mila hum ko ek haseen chehre ka
Munh latak gaya Ahmed beshumaar logon ka
رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...
مکمل تعارف پڑھیں