رانا احمد شہید — شاعر کی تصویر

یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے — رانا احمد شہید

شاعر

تعارف شاعری

یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے

یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے
‏تماشہ گر تماشہ بن گیا ہے
‏جسے تم قتل کرنے جا رہے ہو
‏تمہارے روبرو وہ آ کھڑا ہے
‏گرہیں تم نے جو ہاتھوں سے لگائیں
‏انہیں دانتوں سے ہی اب کھولنا ہے
‏تم اپنے کام ہی سے کام رکھو
‏مرا یہ مخلصانہ مشورہ ہے
‏مجھے حکمِ اذاں ہے یاد رکھو
‏مجھے لکھنا ہے، مجھ کو بولنا ہے
‏ہوس سے لحد میری منتظر ہے
‏زمیں کو جسم میرا نوچنا ہے

Ye khushkhabri hai ya ik sanha hai

Ye khushkhabri hai ya ik sanha hai
Tamasha gar tamasha ban gaya hai
Jise tum qatl karne ja rahe ho
Tumhare rubaru wo aa khada hai
Girhein tum ne jo hathon se lagayeen
Inhein daanton se hi ab kholna hai
Tum apne kaam hi se kaam rakho
Mera ye mukhlisana mashwara hai
Mujhe hukm-e-azan hai yaad rakho
Mujhe likhna hai, mujh ko bolna hai
Hawas se lahad meri muntazir hai
Zameen ko jism mera nochna hai

شاعر کے بارے میں

رانا احمد شہید

رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام