یوں نصیب اپنا سو گیا احمد
پاس جو کچھ تھا کھو گیا احمد
ہر طرف فصل ہے اداسی کی
بیج ایسا وہ بو گیا احمد
ناخدا لے کے بیچ دریا میں
میری کشتی ڈبو گیا احمد
اس سے شکوہ کیا ہم بھلا کرتے
اس کو جانا تھا، وہ گیا احمد
رونے دھونے کا یہ تردد کیوں
اب جو ہونا تھا ہو گیا احمد
رانا احمد شہید
Yun naseeb apna so gaya Ahmed
Paas jo kuch tha kho gaya Ahmed
Har taraf fasl hai udasi ki
Beej aisa woh bo gaya Ahmed
Nakhuda le ke beech darya mein
Meri kashti dubo gaya Ahmed
Is se shikwa kya hum bhala karte
Is ko jaana tha, woh gaya Ahmed
Rone dhone ka yeh taraddud kyun
Ab jo hona tha ho gaya Ahmed
رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چ...
مکمل تعارف پڑھیں