ثروت حسین

ثروت حسین

شاعر — Sarwat Hussain

تعارف شاعری

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہوگا زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہوگا گھائل پنچھی تیری کنج میں آن گرا ہے اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہوگا میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہوگا شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا لیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہوگا ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا

— ثروت حسین

English rendering

Yeh jo phoot baha hai darya phir nahin hoga Rooy-e zameen par manzar aisa phir nahin hoga Zard gulab aur aainon ko chahne wali Aisi dhoop aur aisa savera phir nahin hoga Ghayal panchhi teri kunj mein aan gira hai Us panchhi ka doosra phera phir nahin hoga Main ne khud ko jama kiya pachchees baras mein Yeh saamaan to mujh se yakja phir nahin hoga Shehzadi tere mathe par yeh zakhm rahega Lekin us ko choomne wala phir nahin hoga Sarwat tum apne logon se yoon milte ho Jaise in logon se milna phir nahin hoga

‹ کلام کی فہرست پر واپس