شبنم شکیل — شاعر کی تصویر

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں — شبنم شکیل

شاعر

تعارف شاعری

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں

دکھ کا منتر پڑھی ہوئی ہوں
میں غربت میں بڑی ہوئی ہوں
ان میں وقت ہی ضائع ہوگا
جن باتوں میں پڑی ہوئی ہوں
راج سنگھاسن ہے یہ میرا
یا سولی پر چڑھی ہوئی ہوں
آدھی ریت سے باہر ہوں میں
آدھی ریت میں گڑھی ہوئی ہوں
آدھی مان چکی ہوں اس کی
آدھی بات پہ اڑی ہوئی ہوں
مجھ کو گرانا سہل نہیں ہے
اپنے سہارے کھڑی ہوئی ہوں

Dukh ka mantar padhi hui hoon

Dukh ka mantar padhi hui hoon
Main ghurbat mein badhi hui hoon
In mein waqt hi zaaya hoga
Jin baaton mein padi hui hoon
Raj singhasan hai yeh mera
Ya suli par chadhi hui hoon
Aadhi ret se bahar hoon main
Aadhi ret mein gadhi hui hoon
Aadhi maan chuki hoon us ki
Aadhi baat pe adi hui hoon
Mujh ko giraana sehl nahin hai
Apne sahare khadi hui hoon

شاعر کے بارے میں

شبنم شکیل

شبنم شکیل اردو کی معروف شاعرہ، ادیبہ، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھیں جنہوں نے جدید اردو غزل اور نظم میں نسائی احساسات، محبت، تنہائی، داخلی کرب، سماجی شع...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام