کانٹے چبھتے ہیں چبھیں پاؤں میں چلتے جائیں
راکھ بننے سے تو بہتر ہے کہ جلتے جائیں
طبع روشن رہے ایسی ہی فروزاں اپنی
اور ہم شمع کی مانند پگھلتے جائیں
جنہیں رکھا نہ لگاوٹ کے بھی زمرے میں کبھی
رفتہ رفتہ انہیں باتوں سے بہلتے جائیں
دے نیا غم کہ ہمیں پھر سے سنبھالے آ کر
سحر سے تیرے بھی اب ہم تو نکلتے جائیں
خواہشیں ساتھ ہی چلتی ہیں جدھر بھی جائیں
ہم کہاں تک انہیں قدموں سے مسلتے جائیں
شبنم شکیل
Kaante chubhte hain chubhen paon mein chalte jaaen
Raakh banne se to behtar hai ke jalte jaaen
Tab-e-roshan rahe aisi hi firozan apni
Aur hum shama ki maanind pighalte jaaen
Jinhen rakha na lagawat ke bhi zumre mein kabhi
Rafta rafta unhen baaton se behalte jaaen
De naya gham ke hamen phir se sambhale aa kar
Sehar se tere bhi ab hum to nikalte jaaen
Khwahishen saath hi chalti hain jidhar bhi jaaen
Hum kahan tak unhen qadmon se masalte jaaen
شبنم شکیل اردو کی معروف شاعرہ، ادیبہ، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھیں جنہوں نے جدید اردو غزل اور نظم میں نسائی احساسات، محبت، تنہائی، داخلی کرب، سماجی شعور اور خود آگہی کو نہایت وقار اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا۔ وہ 12 مارچ 1942ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد سید عابد علی عابد اردو ادب کی ممتاز شخ...
مکمل تعارف پڑھیں