کتنے آسان راستے ہوتے
ہم اگر ساتھ چل رہے ہوتے
ہوتی اونچی اڑان اپنی بھی
پر اگر یوں نہ کٹ گئے ہوتے
خود سے فرصت ہمیں اگر ملتی
آپ کا ساتھ دے رہے ہوتے
بات تو کر کے دیکھتے باہم
پھر جو ہوتے سو فیصلے ہوتے
بات کرتے اگر ستاروں سے
شب کے ہمراہ رت جگے ہوتے
آرزو تھی کہ عشق میں شبنمؔ
دل کے دھاگے کہیں بندھے ہوتے
شبنم شکیل
Kitne aasaan raaste hote
Hum agar saath chal rahe hote
Hoti unchi udaan apni bhi
Par agar yun na kat gaye hote
Khud se fursat hamein agar milti
Aap ka saath de rahe hote
Baat to kar kar ke dekhte baham
Phir jo hote so faisle hote
Baat karte agar sitaron se
Shab ke hamrah rat jage hote
Aarzoo thi ke ishq mein Shabnamؔ
Dil ke dhaage kahin bandhe hote
شبنم شکیل اردو کی معروف شاعرہ، ادیبہ، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھیں جنہوں نے جدید اردو غزل اور نظم میں نسائی احساسات، محبت، تنہائی، داخلی کرب، سماجی شعور اور خود آگہی کو نہایت وقار اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا۔ وہ 12 مارچ 1942ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد سید عابد علی عابد اردو ادب کی ممتاز شخ...
مکمل تعارف پڑھیں