پیش کردہ کلام
- 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے
- 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی
- 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے
- 04 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا
- 05 ہم اہل خوف
- 06 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
- 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی
- 08 ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے
- 09 ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف
- 10 تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
- 11 سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں
- 12 جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
- 13 نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے
- 14 میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
- 15 سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
- 16 چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہو
- 17 کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
- 18 گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
- 19 کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
- 20 ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا
- 21 الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
- 22 یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
- 23 خدا کا گھر نہیں کوئی
- 24 ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
- 25 آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا
- 26 ترغیب
- 27 کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
- 28 کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
- 29 لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے
- 30 اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے
- 31 روز مرغا بنا کرے کوئی
- 32 میرے کمرے سے نکل کر دائرے