افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہ راتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی یوں پھول جھڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

شاعر: پروین شاکر — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس