افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے

دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے سوچ کر بھی جنہیں ثواب ملے اس طرح وہ ملا ھے یادوں میں جیسے کھوئی ہوئی کتاب ملے اس نے رکھا ہی تھا چمن میں قدم منہ چھپاتے ہوئے گلاب مِلے جرات عرض کر تو بیٹھے ہیں جانے اب کیا ہمیں جواب ملے کس کا چہرہ قتیل پڑھتے ہم لوگ اوڑھے ہوئے نقاب ملے.

شاعر: قتیل شفائی — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس