افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئی اس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سے جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیں وہ خوش ہیں اپنے حال میں اہم اپنی چال میں سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مرا ترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں

شاعر: سیماب اکبرآبادی — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس