افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے

ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے اے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا جو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے اے برہمن اک دن بت پندار کو اپنے توڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے کہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھے دیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے دیوانگیٔ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

شاعر: سیماب اکبرآبادی — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس