افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہے سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سے دیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں رتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں تمام سلسلے کیوں ماہ و سال میں گم ہیں یہ چاند جھیل کے پانی سے ہم کلام ہے کیوں کنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں

شاعر: اسعد بدایونی — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس