افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار وہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیں مر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے اخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہم کیوں کر ہوا ہے طے یہ سفر کچھ نہ پوچھئے

شاعر: اختر شیرانی — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس