افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے

مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے​ کہ دروازہ بھی آتا ہے کِسی کے لان سے پہلے​ ​پھر اُس کے بعد تنہائی کے دُکھ بھی جھیلنے ہوں گے​ یہی ڈر تھا رفاقت کے ہر اِک اِمکان سے پہلے​ ​مناسب ہے کہ اپنے راستے تبدیل کر لیں ہم​ کِسی اُلجھن، کِسی تلخی، کِسی خلجان سے پہلے​ ​چمک اُٹھے ہیں بالوں میں منور تار چاندی کے​ کِسی کے صحن میں دُھوپ آ گئی دالان سے پہلے​ ​کریں گے گفتگُو بھی، گر ہمیں دُنیا نے مُہلت دی​ ذرا ہم دیکھ تو لیں تجھ کو اِطمینان سے پہلے​ ​میں شرمندہ ہوں رفتگاں سے جانے کیوں ساجد​ بدل دیتا ہوں رستہ، روز قبرستان سے پہلے​

شاعر: اعتبارساجد — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس