افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے​ نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے​ حرم کا عزم پنپتا نظر نہیں اتا​ کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے​ فقیہ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے​ تو نیک بخت گلے میرے آن پڑتا ہے​ ہمیں خبر ہے حصول مراد سے پہلے​ خراب ہونا بھی اے مہربان پڑتا ہے​ عدم نشیمن دل بدگمان نہ ہوجاے​ نہ جانے ، کب کسی بجلی کا دھیان پڑتا ہے​

شاعر: عبدالحمیدعدم — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس