افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں ہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کو خبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تک کہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذرا کہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیں کہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسے مگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں

شاعر: شبنم شکیل — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس