افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں جانب گلشن کوئی مست خرام آ ہی گیا پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام وہ مرا سرو رواں ماہ تمام آ ہی گیا بارہا ایسا ہوا ہے یاد تک دل میں نہ تھی بارہا مستی میں لب پر ان کا نام آ ہی گیا زندگی کے خاکۂ سادہ کو رنگیں کر دیا حسن کام آئے نہ آئے عشق کام آ ہی گیا کھل گئی تھی صاف گردوں کی حقیقت اے مجازؔ خیریت گزری کہ شاہیں زیر دام آ ہی گیا

شاعر: اسرار الحق مجاز — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس