وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے بہت روئے مگر رونے نہ پائے کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں مسافر رات بھر سونے نہ پائے جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
‹ کلام کی فہرست پر واپس
مقرر — ایکس پروفائل
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے بہت روئے مگر رونے نہ پائے کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں مسافر رات بھر سونے نہ پائے جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
‹ کلام کی فہرست پر واپس