افتخار احمد

افتخار احمد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے چند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سے دل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے میرے خوابوں میں نہ جانے کس کی لو شامل ہوئی میری آنکھوں میں نہ جانے کس کے منظر آ گئے سوچتے ہی سوچتے ہم پر کھلے لہروں کے بھید دیکھتے ہی دیکھتے دریا پلٹ کر آ گئے زندگی نے ہاتھ کھینچا سانس کی تفہیم سے اور یوں الزام سارے موت کے سر آ گئے ان کے رنگ سرخ پر حیران ہوں خود بھی جو اشک آنکھ اندر کی طرف کھلتے ہی باہر آ گئے جانے ان رستوں پہ کیا گزرے گی آزرؔ صبح تک شام سے پہلے ہی ہم آوارگاں گھر آ گئے

شاعر: دلاور علی آزر — پیشکش: افتخار احمد

‹ کلام کی فہرست پر واپس